Guestbook
Authorization
Site sections
Downloads News Blogs Guestbook Music Photo Communities Users forum
© www.mobopfc.com - 2026
Morning everyone. !!
06:43
0
•┈┈┈••✦ ♡ ✦••┈┈┈•

_ہوئی مُدَّت کہ تیری دید کو تَرسی آنکھیں۔۔۔!!_
_ضَبط جیسا بھی ہو، کون اِتنا صَبر کرتا ہے۔۔۔!!❤️‍🩹_

_اور تیرے ہجر کے مارے ہوئے بیماروں پر۔۔۔!!_
_نُسخَہ لقمان بھی ہو، کہاں اثر کرتا ہے۔۔۔!!🙂💔
00:18
0
Allah hafiz 🥀🥀
Yesterday at 22:53
1
تمہاری یاد کے جگنو جو دل میں جھلملاتے ہیں
اندھیری رات میں رستے ستارے بن کے آتے ہیں
بہت پُرشور دنیا میں سکوں کی جستجو لے کر
ہم اکثر اپنے ہی اندر کہیں ٹھہر سے جاتے ہیں
وہ ہجر و وصل کے لمحے، وہ قصے بیتے برسوں کے
کسی پرانی بیاض کے گوشوں سے اب لرزتے ہیں
دیارِ غیر میں بھی ہم کو وہ مٹی پکارتی ہے
جہاں ہم نے پرندوں کی طرح دن گنوائے ہیں
وفا کی راہ میں جن کو کٹھن منزل ملی، وہ ہی
زمانے بھر کی آنکھوں میں حقیقت جگمگاتے ہیں
چلو اب بوجھ یادوں کا کہیں ساحل پہ رکھ دیں ہم
مسافر تھک بھی جائیں تو سفر کب چھوڑ پاتے ہیں
سخن کے اس گلستاں میں قلم کی آبرو رکھنا
مسعود اب حرفِ سادہ بھی دلوں میں گھر بناتے ہیں
 
Yesterday at 19:59
1
یونہی تو فضا سوگوار نہیں ہوتی ہے
کہیں تو کوئی سِتم برپا ہُوا ہوتا ہے
یونہی تو بادل بَین نہیں کِیا کرتے ہیں
کہیں تو کوئی معصوم ناحق رویا ہوتا ہے
Yesterday at 19:59
1
کوئی بھی راہ نہ اس شخص سے نکالی گئی
ہمارے بیچ میں جو بات تھی وہ پا لی گئی
وہ اقتدار میں آیا تو جو کرے سو کرے
غلام سے بھی کبھی سلطنت سنبھالی گئی؟
سلیمؔ کو تو شہنشاہ نے رکھا آزاد
کلیؔ کے گرد ہی دیوار سی اٹھا لی گئی
اداس چہروں پہ آثار وقت کے ہیں عیاں
ہے راکھ رخ پہ مرے، تیرے لب کی لالی گئی
اندھیرے شہر میں ہے راج، راجہ چوپٹ کا
یہ کس کے نام کی تہمت تھی کس پہ ڈالی گئی
نمازِ صبح کی ہم میں کسی کو فکر نہیں
جبھی تو رزق سے برکت بھی سب اٹھا لی گئی
تمہارے بعد تھا آنگن میں وحشتوں کا رقص
اداس دن تھا بہت، شام خالی خالی گئی
یہ کیسا دوغلہ پن ہے کہ ایک سی دستار
امیرِ شہر کی رکھی، مری اچھالی گئی
رشیدؔ وقت نے اس کو بدل دیا یکسر
رہا نہ رنگ، جو صورت تھی بھولی بھالی، گئی
Yesterday at 19:58
1
خار گل چاند تارے بھی ہیں راستے
گر سمجھ تو اشارے بھی ہیں راستے
زندگی واسطے تو ہے فرقان تُو
سب صحیفے سپارے بھی ہیں راستے
صبح نو شام نم رات دن مہر و ماہ
زندگی کے نظارے بھی ہیں راستے

سوچ تو سُبک اپنے ہی بارے کبھی
سوچ تیری کے دھارے بھی ہیں راستے
لا ابالی نہ چل راہ پر خطرہ ہے
دشت کے خوف مارے بھی ہیں راستے

خوب رو پھول و گل باد سحراں کی مہک
شہرِ جاں کے نظارے بھی ہیں راستے

عشق کا فن نہیں جانِ حافظ تجھے
عشق میں تو خسارے بھی ہیں راستے
از قلم محمد مدثر متخلص حافظ
Yesterday at 19:58
1
حالِ غم زار جو کر رہے
موت سے قَبل ہی مر رہے
پا لیا خارِ غم جس نے بھی
دشتِ خلوت میں وہ ڈر رہے
اک گلی شوخ میں گھر سے ہم
چاہ میں تیری باہر رہے
شکر ہے بس کہ خواہش میں تو
پھول ہم تیرے دلبر رہے
قیدِ خلوت میں شب بھر ہمی
اُس کی بانہوں میں اکثر رہے
چکھ لیا جسمِ مرمر حسیں
ہم تو اوروں سے بہتر رہے
تیری آغوشِ دائم میں ہم
جان دنیا سے برتر رہے
خلد سے ہم نکالے ہوئے
تیرے دل میں تو آخر رہے
اُس نگاہِ مُسخّر سے تو
دل میں مس تیغ و خنجر رہے
عشق جنگِ مِداں ہے سَمی
خوف اِس میں نہ ہی سر رہے
Yesterday at 19:57
1
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
Yesterday at 19:37
1
حوصلے ٹوٹ کر آنکھوں سے نکل آتے ہیں
ضبط سے بڑھ کر اگر درد چھپائے جائیں
Yesterday at 19:36
1
دیکھ کے تجھےطلب جہاں نہ رہی
خود کو بھی بھول گئے حصار میں تیرے
Yesterday at 19:36
1
یہ ٹوٹ ٹوٹ کے کیوں لوگ اُدھر کو جاتے ہیں
ہمارے ضبط کی حد کو جو آزماتے ہیں
اب ان کا عِطر فروشوں میں نام آتا ہے
مہک جو بیچتے ہیں، ہانک بھی لگاتے ہیں
وہ جن کے واسطے میں سب سے لا تعلق ہوں
وہی عدو سے مرے ہاتھ جا ملاتے ہیں
بہت ہی دیر میں ہم پر یہ بھید کھلتا ہے
کہ گوشت پوست کو ہم کیا خدا بناتے ہیں
جو اپنے آپ کو اوروں کی نذر کر ڈالے
اب ایسے لوگ تو بس گنتیوں میں آتے ہیں
زوال میں تو مجھے دیکھنا گوارا نہ تھا
عروج میں وہ بھلا کیسے حق جتاتے ہیں
وہی چلے ہمیں کرنے کو آج دریا بُرد
رشیدؔ! جن کے لیئے کشتیاں بناتے ہیں
Yesterday at 19:36
1
انسان کے کردار کی دو منزلیں ہیں
دل میں اتر جانا یا دل سے اتر جانا
Yesterday at 19:35
1
Dr_M.shehzad i am not angry ok zyadaa Nahi sochy
Yesterday at 15:43
0
Hm ok 🙂
Yesterday at 14:28
0
Dr-M.Shehzad
Replied Shaheer

Ap to ise gusa hogi jese mene apki koi chez churai ho 😅

Yesterday at 14:30
Show all the answers 1
Ok Ali Bhai
Yesterday at 14:11
0
پھر یوں ہوا کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑے
چہرہ کبھی جو اس کا خیالوں میں آگیا
Yesterday at 10:29
0
اتنا انمول تو نہیں ہوں مگر میری قدر یاد رکھنا
میرے بعد مجھ جیسا کوئی میسر نہیں ہوگا
Yesterday at 10:29
1
دکھ کا اصل مطلب یہ ہے کہ جب کوئی
قریب ہونے کے باجود بھی دور لگے
Yesterday at 10:29
0
ہم نے جی جان سے اس بار ادھیڑے ہیں زخم
تھوڑی وحشت سے گزارا ہی کہاں ہوتا ہے
Yesterday at 10:28
0
نہ جانے کتنے گھر بسائے اپنا گھر بسا نہ سکی
سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی
ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں
اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی
جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں
اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی
مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی
اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی
ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے
اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی
کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے
سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی
رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں
اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی
کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی
سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی
مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا
سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی
Yesterday at 10:28
0
Dr-M.Shehzad
Replied Shaheer

Kuch nai muwzirat mojhe ans mel gya mere msg ka

Yesterday at 14:28
Show all the answers 5
کچھ ہاتھ مجھے زخم لگانے میں لگے ہیں
کچھ زلفِ پریشاں کو سجانے میں لگے ہیں
ہمدرد نہیں ان کو منافق ہی کہیں گے
خود آگ لگا کر جو بجھانے میں لگے ہیں
بیٹوں کو محبت کے لیے وقت کہاں ہے
دن رات مشقت سے کمانے میں لگے ہیں
کچھ ابرِ کرم ہم پہ کرو رحمت عالم
ہم لوگ گلستاں کو بچانے میں لگے ہیں
جو لوگ سناتے ہیں مجھے خوابِ گریزاں
وہ سوزِ دروں میرا جگانے میں لگے ہیں
Yesterday at 10:28
0
جسے اپنا سمجھتے تھے ،وہی وار کر بیٹھے
نادان تھے ہم بھی کہ انہی سے پیار کر بیٹھے
نہ چیڑھ ذکر فریب کا ہم دل جلو کو نہ چیڑھنا
کہ یہی قصے جوانی میں ہمیں بیمار کر بیٹھے
کہ جو نکلے تھے سر بازار ہمیں بے آبرو کرنے
اسی کم بخت سنگ دل پر یہ جان قربان کر بیٹھے
جو ملمع ساز تھے مشہور اس بھرے زمانے میں
کیوں اسی دروغ گو پہ ہم اعتبار کر بیٹھے
یہ دنیا خوش نہیں ہم سے یہ لوگ اپنے نہیں ہوتے
بس یہی سمجھنے تک خودہی کو خوار کر بیٹھے
Yesterday at 10:27
0
خبر نہیں کہ سحر کب تلک یہ رات رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
Yesterday at 10:27
0
کمبخت سونے بھی نہیں دیتی تیری یاد
ہر بار تیری یاد بھلانے کی کوشش بے سود رہی
Yesterday at 10:27
0
سبھی ہیں اپنے مگر اجنبی سے لگتے ہیں
یہ زندگی ہے کہ ہوٹل میں شب گزاری ہے
Yesterday at 10:26
0
اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا
ہو تمہاری آنکھ سے چشمہ نہ جاری، دیکھنا
تم نے اپنی آنکھ کی تاثیر ہلکے میں تو، لی
دھیرے دھیرے ہو گا کوئی کیف طاری دیکھنا
خوف ایسا آپ نے پیدا کیا تھا ذہن میں
بیچ رستے سے پلٹ آئی بچاری دیکھ نا
راہ کی پیچیدگی بیزار کر دے گی تمہیں
مشورہ ہو گا کہ بہتر سی سواری دیکھنا
دیکھنا تم، سینکڑوں میں ایک دو رہ جائیں گے
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا
اجرتی قاتل کسی کا دوست ہوتا ہی نہیں
لے رکھی ہو گی تمہاری بھی سپاری، دیکھنا
کچھ نہیں پونجی ہماری صرف عزّت ہی تو ہے
زندگی ہم نے شرافت میں گزاری۔ دیکھنا
کل تلک تو راج کرتی تھی بڑی ہی شان سے
آج گر ناکام ہے قسمت کی ماری دیکھ ۔ نا
رخ پہ بارش، پھول پر شبنم کے قطرے جس طرح
اس پہ حسرتؔ زلف نے صورت نکھاری، دیکھنا
Yesterday at 10:26
0
دولت کی ہوس نے دل کو جلا ڈالا ہے
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
Yesterday at 10:25
0
محل دل کا جو پھر تعمیر کرنا پڑ رہا ہے
نجانے کیا کو، کیا تعبیر کرنا پڑ رہا ہے
بہت مشہور تھے ہم دوستوں میں عدل والے
سو اپنے آپ کو تعزیر کرنا پڑ رہا ہے
تصرف ہم کو پہلے بھی تھا گرچہ اس جہاں پر
مگر اب تو اسے تسخیر کرنا پڑ رہا ہے
کسی کی آنکھ ہم کو قید خانہ کرنا ٹھہری
گھنی زلفوں کو ہی زنجیر کرنا پڑ رہا ہے
ہمارے زخم بھرنے میں نہ آئے ہیں تو ناچار
محبت کو ابھی تاثیر کرنا پڑ رہا ہے
دکھوں میں بھی ہمیں ہنستا ہؤا دیکھا گیا تو
نیا اک روگ دامن گیر کرنا پڑ رہا ہے
بہت دن چپ رہے ہم، لوگ سمجھیں گے اشارہ
زباں کو اب مگر شمشیر کرنا پڑ رہا ہے
مری آنکھوں کے حلقے ضد پہ اپنی اڑ گئے ہیں
تصوّر کو ابھی تصویر کرنا پڑ رہا ہے
کسے مانگا تھا حسرتؔ کون آیا دوڑے دوڑے
اُسے قسمت، اٖسے تقدیر کرنا پڑ رہا ہے
Yesterday at 10:25
0
پُرانے زخم ہَرے ہو رہے ہیں
نئے زخموں کو ابھی رہنے دیں
پُرانے زخم ذرا بَھرنے دیں
یہ نئےزخم ابھی نہ چھیڑیں
Yesterday at 10:25
0
Sorry, you are unable to comment
previous