This site uses cookies. Do you consent to their use?
Yes, I allow it.
Actions
Кто оценил
Delete
•┈┈┈••✦ ♡ ✦••┈┈┈•
_ہوئی مُدَّت کہ تیری دید کو تَرسی آنکھیں۔۔۔!!_
_ضَبط جیسا بھی ہو، کون اِتنا صَبر کرتا ہے۔۔۔!!❤️🩹_
_اور تیرے ہجر کے مارے ہوئے بیماروں پر۔۔۔!!_
_نُسخَہ لقمان بھی ہو، کہاں اثر کرتا ہے۔۔۔!!🙂💔
00:18
_ہوئی مُدَّت کہ تیری دید کو تَرسی آنکھیں۔۔۔!!_
_ضَبط جیسا بھی ہو، کون اِتنا صَبر کرتا ہے۔۔۔!!❤️🩹_
_اور تیرے ہجر کے مارے ہوئے بیماروں پر۔۔۔!!_
_نُسخَہ لقمان بھی ہو، کہاں اثر کرتا ہے۔۔۔!!🙂💔
0
Actions
Кто оценил
Delete
تمہاری یاد کے جگنو جو دل میں جھلملاتے ہیں
اندھیری رات میں رستے ستارے بن کے آتے ہیں
بہت پُرشور دنیا میں سکوں کی جستجو لے کر
ہم اکثر اپنے ہی اندر کہیں ٹھہر سے جاتے ہیں
وہ ہجر و وصل کے لمحے، وہ قصے بیتے برسوں کے
کسی پرانی بیاض کے گوشوں سے اب لرزتے ہیں
دیارِ غیر میں بھی ہم کو وہ مٹی پکارتی ہے
جہاں ہم نے پرندوں کی طرح دن گنوائے ہیں
وفا کی راہ میں جن کو کٹھن منزل ملی، وہ ہی
زمانے بھر کی آنکھوں میں حقیقت جگمگاتے ہیں
چلو اب بوجھ یادوں کا کہیں ساحل پہ رکھ دیں ہم
مسافر تھک بھی جائیں تو سفر کب چھوڑ پاتے ہیں
سخن کے اس گلستاں میں قلم کی آبرو رکھنا
مسعود اب حرفِ سادہ بھی دلوں میں گھر بناتے ہیں
Yesterday at 19:59
اندھیری رات میں رستے ستارے بن کے آتے ہیں
بہت پُرشور دنیا میں سکوں کی جستجو لے کر
ہم اکثر اپنے ہی اندر کہیں ٹھہر سے جاتے ہیں
وہ ہجر و وصل کے لمحے، وہ قصے بیتے برسوں کے
کسی پرانی بیاض کے گوشوں سے اب لرزتے ہیں
دیارِ غیر میں بھی ہم کو وہ مٹی پکارتی ہے
جہاں ہم نے پرندوں کی طرح دن گنوائے ہیں
وفا کی راہ میں جن کو کٹھن منزل ملی، وہ ہی
زمانے بھر کی آنکھوں میں حقیقت جگمگاتے ہیں
چلو اب بوجھ یادوں کا کہیں ساحل پہ رکھ دیں ہم
مسافر تھک بھی جائیں تو سفر کب چھوڑ پاتے ہیں
سخن کے اس گلستاں میں قلم کی آبرو رکھنا
مسعود اب حرفِ سادہ بھی دلوں میں گھر بناتے ہیں
1
Actions
Кто оценил
Delete
یونہی تو فضا سوگوار نہیں ہوتی ہے
کہیں تو کوئی سِتم برپا ہُوا ہوتا ہے
یونہی تو بادل بَین نہیں کِیا کرتے ہیں
کہیں تو کوئی معصوم ناحق رویا ہوتا ہے
Yesterday at 19:59
کہیں تو کوئی سِتم برپا ہُوا ہوتا ہے
یونہی تو بادل بَین نہیں کِیا کرتے ہیں
کہیں تو کوئی معصوم ناحق رویا ہوتا ہے
1
Actions
Кто оценил
Delete
کوئی بھی راہ نہ اس شخص سے نکالی گئی
ہمارے بیچ میں جو بات تھی وہ پا لی گئی
وہ اقتدار میں آیا تو جو کرے سو کرے
غلام سے بھی کبھی سلطنت سنبھالی گئی؟
سلیمؔ کو تو شہنشاہ نے رکھا آزاد
کلیؔ کے گرد ہی دیوار سی اٹھا لی گئی
اداس چہروں پہ آثار وقت کے ہیں عیاں
ہے راکھ رخ پہ مرے، تیرے لب کی لالی گئی
اندھیرے شہر میں ہے راج، راجہ چوپٹ کا
یہ کس کے نام کی تہمت تھی کس پہ ڈالی گئی
نمازِ صبح کی ہم میں کسی کو فکر نہیں
جبھی تو رزق سے برکت بھی سب اٹھا لی گئی
تمہارے بعد تھا آنگن میں وحشتوں کا رقص
اداس دن تھا بہت، شام خالی خالی گئی
یہ کیسا دوغلہ پن ہے کہ ایک سی دستار
امیرِ شہر کی رکھی، مری اچھالی گئی
رشیدؔ وقت نے اس کو بدل دیا یکسر
رہا نہ رنگ، جو صورت تھی بھولی بھالی، گئی
Yesterday at 19:58
ہمارے بیچ میں جو بات تھی وہ پا لی گئی
وہ اقتدار میں آیا تو جو کرے سو کرے
غلام سے بھی کبھی سلطنت سنبھالی گئی؟
سلیمؔ کو تو شہنشاہ نے رکھا آزاد
کلیؔ کے گرد ہی دیوار سی اٹھا لی گئی
اداس چہروں پہ آثار وقت کے ہیں عیاں
ہے راکھ رخ پہ مرے، تیرے لب کی لالی گئی
اندھیرے شہر میں ہے راج، راجہ چوپٹ کا
یہ کس کے نام کی تہمت تھی کس پہ ڈالی گئی
نمازِ صبح کی ہم میں کسی کو فکر نہیں
جبھی تو رزق سے برکت بھی سب اٹھا لی گئی
تمہارے بعد تھا آنگن میں وحشتوں کا رقص
اداس دن تھا بہت، شام خالی خالی گئی
یہ کیسا دوغلہ پن ہے کہ ایک سی دستار
امیرِ شہر کی رکھی، مری اچھالی گئی
رشیدؔ وقت نے اس کو بدل دیا یکسر
رہا نہ رنگ، جو صورت تھی بھولی بھالی، گئی
1
Actions
Кто оценил
Delete
خار گل چاند تارے بھی ہیں راستے
گر سمجھ تو اشارے بھی ہیں راستے
زندگی واسطے تو ہے فرقان تُو
سب صحیفے سپارے بھی ہیں راستے
صبح نو شام نم رات دن مہر و ماہ
زندگی کے نظارے بھی ہیں راستے
سوچ تو سُبک اپنے ہی بارے کبھی
سوچ تیری کے دھارے بھی ہیں راستے
لا ابالی نہ چل راہ پر خطرہ ہے
دشت کے خوف مارے بھی ہیں راستے
خوب رو پھول و گل باد سحراں کی مہک
شہرِ جاں کے نظارے بھی ہیں راستے
عشق کا فن نہیں جانِ حافظ تجھے
عشق میں تو خسارے بھی ہیں راستے
از قلم محمد مدثر متخلص حافظ
Yesterday at 19:58
گر سمجھ تو اشارے بھی ہیں راستے
زندگی واسطے تو ہے فرقان تُو
سب صحیفے سپارے بھی ہیں راستے
صبح نو شام نم رات دن مہر و ماہ
زندگی کے نظارے بھی ہیں راستے
سوچ تو سُبک اپنے ہی بارے کبھی
سوچ تیری کے دھارے بھی ہیں راستے
لا ابالی نہ چل راہ پر خطرہ ہے
دشت کے خوف مارے بھی ہیں راستے
خوب رو پھول و گل باد سحراں کی مہک
شہرِ جاں کے نظارے بھی ہیں راستے
عشق کا فن نہیں جانِ حافظ تجھے
عشق میں تو خسارے بھی ہیں راستے
از قلم محمد مدثر متخلص حافظ
1
Actions
Кто оценил
Delete
حالِ غم زار جو کر رہے
موت سے قَبل ہی مر رہے
پا لیا خارِ غم جس نے بھی
دشتِ خلوت میں وہ ڈر رہے
اک گلی شوخ میں گھر سے ہم
چاہ میں تیری باہر رہے
شکر ہے بس کہ خواہش میں تو
پھول ہم تیرے دلبر رہے
قیدِ خلوت میں شب بھر ہمی
اُس کی بانہوں میں اکثر رہے
چکھ لیا جسمِ مرمر حسیں
ہم تو اوروں سے بہتر رہے
تیری آغوشِ دائم میں ہم
جان دنیا سے برتر رہے
خلد سے ہم نکالے ہوئے
تیرے دل میں تو آخر رہے
اُس نگاہِ مُسخّر سے تو
دل میں مس تیغ و خنجر رہے
عشق جنگِ مِداں ہے سَمی
خوف اِس میں نہ ہی سر رہے
Yesterday at 19:57
موت سے قَبل ہی مر رہے
پا لیا خارِ غم جس نے بھی
دشتِ خلوت میں وہ ڈر رہے
اک گلی شوخ میں گھر سے ہم
چاہ میں تیری باہر رہے
شکر ہے بس کہ خواہش میں تو
پھول ہم تیرے دلبر رہے
قیدِ خلوت میں شب بھر ہمی
اُس کی بانہوں میں اکثر رہے
چکھ لیا جسمِ مرمر حسیں
ہم تو اوروں سے بہتر رہے
تیری آغوشِ دائم میں ہم
جان دنیا سے برتر رہے
خلد سے ہم نکالے ہوئے
تیرے دل میں تو آخر رہے
اُس نگاہِ مُسخّر سے تو
دل میں مس تیغ و خنجر رہے
عشق جنگِ مِداں ہے سَمی
خوف اِس میں نہ ہی سر رہے
1
Actions
Кто оценил
Delete
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
Yesterday at 19:37
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
1
Actions
Кто оценил
Delete
حوصلے ٹوٹ کر آنکھوں سے نکل آتے ہیں
ضبط سے بڑھ کر اگر درد چھپائے جائیں
Yesterday at 19:36
ضبط سے بڑھ کر اگر درد چھپائے جائیں
1
Actions
Кто оценил
Delete
دیکھ کے تجھےطلب جہاں نہ رہی
خود کو بھی بھول گئے حصار میں تیرے
Yesterday at 19:36
خود کو بھی بھول گئے حصار میں تیرے
1
Actions
Кто оценил
Delete
یہ ٹوٹ ٹوٹ کے کیوں لوگ اُدھر کو جاتے ہیں
ہمارے ضبط کی حد کو جو آزماتے ہیں
اب ان کا عِطر فروشوں میں نام آتا ہے
مہک جو بیچتے ہیں، ہانک بھی لگاتے ہیں
وہ جن کے واسطے میں سب سے لا تعلق ہوں
وہی عدو سے مرے ہاتھ جا ملاتے ہیں
بہت ہی دیر میں ہم پر یہ بھید کھلتا ہے
کہ گوشت پوست کو ہم کیا خدا بناتے ہیں
جو اپنے آپ کو اوروں کی نذر کر ڈالے
اب ایسے لوگ تو بس گنتیوں میں آتے ہیں
زوال میں تو مجھے دیکھنا گوارا نہ تھا
عروج میں وہ بھلا کیسے حق جتاتے ہیں
وہی چلے ہمیں کرنے کو آج دریا بُرد
رشیدؔ! جن کے لیئے کشتیاں بناتے ہیں
Yesterday at 19:36
ہمارے ضبط کی حد کو جو آزماتے ہیں
اب ان کا عِطر فروشوں میں نام آتا ہے
مہک جو بیچتے ہیں، ہانک بھی لگاتے ہیں
وہ جن کے واسطے میں سب سے لا تعلق ہوں
وہی عدو سے مرے ہاتھ جا ملاتے ہیں
بہت ہی دیر میں ہم پر یہ بھید کھلتا ہے
کہ گوشت پوست کو ہم کیا خدا بناتے ہیں
جو اپنے آپ کو اوروں کی نذر کر ڈالے
اب ایسے لوگ تو بس گنتیوں میں آتے ہیں
زوال میں تو مجھے دیکھنا گوارا نہ تھا
عروج میں وہ بھلا کیسے حق جتاتے ہیں
وہی چلے ہمیں کرنے کو آج دریا بُرد
رشیدؔ! جن کے لیئے کشتیاں بناتے ہیں
1
Actions
Кто оценил
Delete
انسان کے کردار کی دو منزلیں ہیں
دل میں اتر جانا یا دل سے اتر جانا
Yesterday at 19:35
دل میں اتر جانا یا دل سے اتر جانا
1
Actions
Кто оценил
Delete
Hm ok 🙂
Yesterday at 14:28
0
Dr-M.Shehzad
Replied Shaheer
Ap to ise gusa hogi jese mene apki koi chez churai ho 😅
Yesterday at 14:30
Show all the answers 1
Replied Shaheer
Ap to ise gusa hogi jese mene apki koi chez churai ho 😅
Yesterday at 14:30
Show all the answers 1
Actions
Кто оценил
Delete
پھر یوں ہوا کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑے
چہرہ کبھی جو اس کا خیالوں میں آگیا
Yesterday at 10:29
چہرہ کبھی جو اس کا خیالوں میں آگیا
0
Actions
Кто оценил
Delete
اتنا انمول تو نہیں ہوں مگر میری قدر یاد رکھنا
میرے بعد مجھ جیسا کوئی میسر نہیں ہوگا
Yesterday at 10:29
میرے بعد مجھ جیسا کوئی میسر نہیں ہوگا
1
Actions
Кто оценил
Delete
دکھ کا اصل مطلب یہ ہے کہ جب کوئی
قریب ہونے کے باجود بھی دور لگے
Yesterday at 10:29
قریب ہونے کے باجود بھی دور لگے
0
Actions
Кто оценил
Delete
ہم نے جی جان سے اس بار ادھیڑے ہیں زخم
تھوڑی وحشت سے گزارا ہی کہاں ہوتا ہے
Yesterday at 10:28
تھوڑی وحشت سے گزارا ہی کہاں ہوتا ہے
0
Actions
Кто оценил
Delete
نہ جانے کتنے گھر بسائے اپنا گھر بسا نہ سکی
سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی
ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں
اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی
جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں
اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی
مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی
اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی
ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے
اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی
کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے
سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی
رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں
اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی
کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی
سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی
مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا
سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی
Yesterday at 10:28
سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی
ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں
اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی
جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں
اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی
مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی
اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی
ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے
اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی
کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے
سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی
رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں
اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی
کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی
سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی
مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا
سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی
0
Dr-M.Shehzad
Replied Shaheer
Kuch nai muwzirat mojhe ans mel gya mere msg ka
Yesterday at 14:28
Show all the answers 5
Replied Shaheer
Kuch nai muwzirat mojhe ans mel gya mere msg ka
Yesterday at 14:28
Show all the answers 5
Actions
Кто оценил
Delete
کچھ ہاتھ مجھے زخم لگانے میں لگے ہیں
کچھ زلفِ پریشاں کو سجانے میں لگے ہیں
ہمدرد نہیں ان کو منافق ہی کہیں گے
خود آگ لگا کر جو بجھانے میں لگے ہیں
بیٹوں کو محبت کے لیے وقت کہاں ہے
دن رات مشقت سے کمانے میں لگے ہیں
کچھ ابرِ کرم ہم پہ کرو رحمت عالم
ہم لوگ گلستاں کو بچانے میں لگے ہیں
جو لوگ سناتے ہیں مجھے خوابِ گریزاں
وہ سوزِ دروں میرا جگانے میں لگے ہیں
Yesterday at 10:28
کچھ زلفِ پریشاں کو سجانے میں لگے ہیں
ہمدرد نہیں ان کو منافق ہی کہیں گے
خود آگ لگا کر جو بجھانے میں لگے ہیں
بیٹوں کو محبت کے لیے وقت کہاں ہے
دن رات مشقت سے کمانے میں لگے ہیں
کچھ ابرِ کرم ہم پہ کرو رحمت عالم
ہم لوگ گلستاں کو بچانے میں لگے ہیں
جو لوگ سناتے ہیں مجھے خوابِ گریزاں
وہ سوزِ دروں میرا جگانے میں لگے ہیں
0
Actions
Кто оценил
Delete
جسے اپنا سمجھتے تھے ،وہی وار کر بیٹھے
نادان تھے ہم بھی کہ انہی سے پیار کر بیٹھے
نہ چیڑھ ذکر فریب کا ہم دل جلو کو نہ چیڑھنا
کہ یہی قصے جوانی میں ہمیں بیمار کر بیٹھے
کہ جو نکلے تھے سر بازار ہمیں بے آبرو کرنے
اسی کم بخت سنگ دل پر یہ جان قربان کر بیٹھے
جو ملمع ساز تھے مشہور اس بھرے زمانے میں
کیوں اسی دروغ گو پہ ہم اعتبار کر بیٹھے
یہ دنیا خوش نہیں ہم سے یہ لوگ اپنے نہیں ہوتے
بس یہی سمجھنے تک خودہی کو خوار کر بیٹھے
Yesterday at 10:27
نادان تھے ہم بھی کہ انہی سے پیار کر بیٹھے
نہ چیڑھ ذکر فریب کا ہم دل جلو کو نہ چیڑھنا
کہ یہی قصے جوانی میں ہمیں بیمار کر بیٹھے
کہ جو نکلے تھے سر بازار ہمیں بے آبرو کرنے
اسی کم بخت سنگ دل پر یہ جان قربان کر بیٹھے
جو ملمع ساز تھے مشہور اس بھرے زمانے میں
کیوں اسی دروغ گو پہ ہم اعتبار کر بیٹھے
یہ دنیا خوش نہیں ہم سے یہ لوگ اپنے نہیں ہوتے
بس یہی سمجھنے تک خودہی کو خوار کر بیٹھے
0
Actions
Кто оценил
Delete
خبر نہیں کہ سحر کب تلک یہ رات رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
Yesterday at 10:27
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
0
Actions
Кто оценил
Delete
کمبخت سونے بھی نہیں دیتی تیری یاد
ہر بار تیری یاد بھلانے کی کوشش بے سود رہی
Yesterday at 10:27
ہر بار تیری یاد بھلانے کی کوشش بے سود رہی
0
Actions
Кто оценил
Delete
سبھی ہیں اپنے مگر اجنبی سے لگتے ہیں
یہ زندگی ہے کہ ہوٹل میں شب گزاری ہے
Yesterday at 10:26
یہ زندگی ہے کہ ہوٹل میں شب گزاری ہے
0
Actions
Кто оценил
Delete
اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا
ہو تمہاری آنکھ سے چشمہ نہ جاری، دیکھنا
تم نے اپنی آنکھ کی تاثیر ہلکے میں تو، لی
دھیرے دھیرے ہو گا کوئی کیف طاری دیکھنا
خوف ایسا آپ نے پیدا کیا تھا ذہن میں
بیچ رستے سے پلٹ آئی بچاری دیکھ نا
راہ کی پیچیدگی بیزار کر دے گی تمہیں
مشورہ ہو گا کہ بہتر سی سواری دیکھنا
دیکھنا تم، سینکڑوں میں ایک دو رہ جائیں گے
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا
اجرتی قاتل کسی کا دوست ہوتا ہی نہیں
لے رکھی ہو گی تمہاری بھی سپاری، دیکھنا
کچھ نہیں پونجی ہماری صرف عزّت ہی تو ہے
زندگی ہم نے شرافت میں گزاری۔ دیکھنا
کل تلک تو راج کرتی تھی بڑی ہی شان سے
آج گر ناکام ہے قسمت کی ماری دیکھ ۔ نا
رخ پہ بارش، پھول پر شبنم کے قطرے جس طرح
اس پہ حسرتؔ زلف نے صورت نکھاری، دیکھنا
Yesterday at 10:26
ہو تمہاری آنکھ سے چشمہ نہ جاری، دیکھنا
تم نے اپنی آنکھ کی تاثیر ہلکے میں تو، لی
دھیرے دھیرے ہو گا کوئی کیف طاری دیکھنا
خوف ایسا آپ نے پیدا کیا تھا ذہن میں
بیچ رستے سے پلٹ آئی بچاری دیکھ نا
راہ کی پیچیدگی بیزار کر دے گی تمہیں
مشورہ ہو گا کہ بہتر سی سواری دیکھنا
دیکھنا تم، سینکڑوں میں ایک دو رہ جائیں گے
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا
اجرتی قاتل کسی کا دوست ہوتا ہی نہیں
لے رکھی ہو گی تمہاری بھی سپاری، دیکھنا
کچھ نہیں پونجی ہماری صرف عزّت ہی تو ہے
زندگی ہم نے شرافت میں گزاری۔ دیکھنا
کل تلک تو راج کرتی تھی بڑی ہی شان سے
آج گر ناکام ہے قسمت کی ماری دیکھ ۔ نا
رخ پہ بارش، پھول پر شبنم کے قطرے جس طرح
اس پہ حسرتؔ زلف نے صورت نکھاری، دیکھنا
0
Actions
Кто оценил
Delete
دولت کی ہوس نے دل کو جلا ڈالا ہے
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
Yesterday at 10:25
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
0
Actions
Кто оценил
Delete
محل دل کا جو پھر تعمیر کرنا پڑ رہا ہے
نجانے کیا کو، کیا تعبیر کرنا پڑ رہا ہے
بہت مشہور تھے ہم دوستوں میں عدل والے
سو اپنے آپ کو تعزیر کرنا پڑ رہا ہے
تصرف ہم کو پہلے بھی تھا گرچہ اس جہاں پر
مگر اب تو اسے تسخیر کرنا پڑ رہا ہے
کسی کی آنکھ ہم کو قید خانہ کرنا ٹھہری
گھنی زلفوں کو ہی زنجیر کرنا پڑ رہا ہے
ہمارے زخم بھرنے میں نہ آئے ہیں تو ناچار
محبت کو ابھی تاثیر کرنا پڑ رہا ہے
دکھوں میں بھی ہمیں ہنستا ہؤا دیکھا گیا تو
نیا اک روگ دامن گیر کرنا پڑ رہا ہے
بہت دن چپ رہے ہم، لوگ سمجھیں گے اشارہ
زباں کو اب مگر شمشیر کرنا پڑ رہا ہے
مری آنکھوں کے حلقے ضد پہ اپنی اڑ گئے ہیں
تصوّر کو ابھی تصویر کرنا پڑ رہا ہے
کسے مانگا تھا حسرتؔ کون آیا دوڑے دوڑے
اُسے قسمت، اٖسے تقدیر کرنا پڑ رہا ہے
Yesterday at 10:25
نجانے کیا کو، کیا تعبیر کرنا پڑ رہا ہے
بہت مشہور تھے ہم دوستوں میں عدل والے
سو اپنے آپ کو تعزیر کرنا پڑ رہا ہے
تصرف ہم کو پہلے بھی تھا گرچہ اس جہاں پر
مگر اب تو اسے تسخیر کرنا پڑ رہا ہے
کسی کی آنکھ ہم کو قید خانہ کرنا ٹھہری
گھنی زلفوں کو ہی زنجیر کرنا پڑ رہا ہے
ہمارے زخم بھرنے میں نہ آئے ہیں تو ناچار
محبت کو ابھی تاثیر کرنا پڑ رہا ہے
دکھوں میں بھی ہمیں ہنستا ہؤا دیکھا گیا تو
نیا اک روگ دامن گیر کرنا پڑ رہا ہے
بہت دن چپ رہے ہم، لوگ سمجھیں گے اشارہ
زباں کو اب مگر شمشیر کرنا پڑ رہا ہے
مری آنکھوں کے حلقے ضد پہ اپنی اڑ گئے ہیں
تصوّر کو ابھی تصویر کرنا پڑ رہا ہے
کسے مانگا تھا حسرتؔ کون آیا دوڑے دوڑے
اُسے قسمت، اٖسے تقدیر کرنا پڑ رہا ہے
0
Actions
Кто оценил
Delete
پُرانے زخم ہَرے ہو رہے ہیں
نئے زخموں کو ابھی رہنے دیں
پُرانے زخم ذرا بَھرنے دیں
یہ نئےزخم ابھی نہ چھیڑیں
Yesterday at 10:25
نئے زخموں کو ابھی رہنے دیں
پُرانے زخم ذرا بَھرنے دیں
یہ نئےزخم ابھی نہ چھیڑیں
0
Sorry, you are unable to comment
previous



